ابنا:
ریڈیو تہران:
ہمارے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق رامین مہمان پرست نے آج تہران میں ملکی وغیر ملکی صحافیوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اکثریت پر اقلیت کی رائے مسلط کرنا عین آمریت ہے کہا اور ایران کبھی بھی پرامن طور پر مطالبات پیش کرنے والے عوام کے ساتھ تشدد آمیزرویہ اختیار کرنے کی تائید نہيں کرتا۔انھوں نے شام کے حالات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے تاکید کی کہ امریکہ اورمغربی ممالک نے اپنے ذرائع ابلاغ کی مدد سے کچھ غنڈوں کی حرکتوں کو بڑھاچڑھا کرپیش کرنے اور اسے ایک معاشرے کی اکثریت کی رائے ظاہرکرنے کی کوشش کی۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے عراق میں دہشتگرد گروہ ایم کے او کے کیمپ کے حالیہ واقعات میں یورپی یونین کی جانب سے اس گروہ کی حمایت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ انسانی حقوق کے دعویدارممالک اورعالمی برادری نیزعالمی اداروں سے یہ توقع ہے کہ وہ دہرے رویے اوردوغلی پالیسی اختیارکئے بغیردہشتگردانہ اقدام کی مذمت کریں اوردہشتگردوں کوپناہ دیناچھوڑدیں۔اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کی فوج بحرین بھیجے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ کسی بھی ملک میں بحران کاراہ حل یہ ہے کہ اس ملک ميں ایساماحول پیداکیاجائے جس سے عوام کے مطالبات کوپہچاننے، اس کاجائزہ لینے اورانھیں پوراکرنے میں مدد ملے اوراگرکوئي غلط راستہ انتخاب کیاگیاتو نہ صرف یہ کہ وہ مطالبات پورے نہيں ہوں گے بلکہ اس سے بحران مزيد پیچیدہ ہوجائے گا۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اگرحکومتوں کے ہاتھ عوام کے خون سے رنگین ہوجائيں گے تواس سے گہرے اور پرانے زخم پیداہوں گے جن کاعلاج کرنے میں کافی نقصان ہوسکتاہے ، کہاکہ ایسے معاملات میں دوسرے ملکوں کی مداخلت جوبحرینی عوام کے ذریعے پرامن طریقے سے حل ہوسکتے ہيں، صحیح نہيں ہے۔
مہر نیوز:
سعودی وزير خارجہ کے بیانات امریکہ کی مرضی اور منشاء کے مطابق ہیں اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کے بیانات کو غیر سنجیدہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے بجائے علاقہ میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہا ہے اور بحرین میں سعودی عرب کی لشکر کشی امریکہ کی مرضی کے مطابق انجام پائی ہے۔ مہر خبررساں ایجنسی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان رامین مہمانپرست نے ترہن میں نامہ نگاروں سے گفتگو میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ سعود الفیصل کے بیانات کو غیر سنجیدہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کے بجائے علاقہ میں امریکی مفادات کا تحفظ کررہا ہے اور بحرین میں سعودی عرب کی لشکر کشی امریکہ کی مرضی کے مطابق انجام پائی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو ملک بھی امریکہ اور اسرائیل کی مرضی کے مطابق عمل کرےگا وہ فتنہ اور فساد میں گرفتار ہوجائے گا رامین مہمانپرست نے کہا کہ خلیجی ممالک کو چاہیے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے جال سے نکل جائیں کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ان کی نابودی کا منصوبہ تیار کررکھا ہے امریکہ عرب ممالک کو غیر م ستقل اوراپنا دست نگر رکھنا چاہتا ہے ترجمان نے سعودی فوجیوں کی طرف سے بحرین میں مسجدوں کی بے حرمتی اور تخریب کی شدید الفاظ مین مذمت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110